2 Lines Urdu poetry ; one of the most demanded poetry.

The most popular type of Urdu poetry is, 2 lines poetry ,some of the most famous “ASHAAR” are presented here

2 lines poetry
2 lines poetry in Urdu

دو مصروں پہ مشتمل اردو شاعری کو اردو ادب میں خاص اہمیت اور مقام حاصل ہے۔ اس صنف میں شاعر اپنے جذبات، خیالات، اساسات اور تجربات کو صرف دو مصرعوں میں سمیٹ دیتا ہے۔ کم الفاظ میں گہری بات کہ دینا دو مصرعی شاعری کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

دو مصروں پہ مشتمل شاعری کے موضوعات

یہ شاعری جذبات، اداسی،محبت، غم، جدائی، امید، زندگی اور حقیقت جیسے موضوعات پر مشتمل ہوتی ہے۔ دو مصرعوں میں بڑی بات کہنے کی وجہ سے اس میں سادگی کے ساتھ وسعت اور گہرائی بھی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شاعری پڑھنے والے قاری کے دل پر فوراً اثر کرتی ہے۔

اہم شعرا

اردو کے بڑے شعرا جیسے مرزا غالب، میر تقی میر، احمد فراز اور جون ایلیا نے دو مصرعی شاعری کو لازوال بنایا۔ آج کے دور میں بھی یہ صنف بہت ہی مقبول ہے اور سوشل میڈیا پر بھی کثرت سے پڑھی اور سنی جاتی ہے۔
مختصر ہونے کے باوجود دو مصرعی شاعری اردو ادب کی ایک مکمل اور مؤثر  ترین صنف شاعری ہے جو کم لفظوں میں بڑے احساسات بیان کرنے کی طاقتہ رکھتی ہے۔

چندلازوال اشعار

رکھتے ہیں جو اوروں کے لیے پیار کا جذبہ

وہ لوگ کبھی ٹوٹ کے بکھرا نہیں کرتے

ساغر صدیقی

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

— فیض احمد فیض

ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

— فیض احمد فیض

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا

لہو آتا ہے جب نہیں آتا

— جون ایلیا

یہ شعر تو ضرب المثل کے طور پہ مشہور ہے

اس شعر کے بدلے میں غالب نے اپنا پورا دیوان مومن خان مومن کو دینے کی پیشکش کی

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

— -حکیم مومن خان مومن

میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

— جون ایلیا

کیا ستم ہے کہ اب تیری صورت

غور کرنے پہ یاد آتی ہے

— جون ایلیا

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا

ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا

— جون ایلیا

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

— احمد فراز

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

— احمد فراز

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

— احمد فراز

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

— احمد فراز

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب

موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشان ہونا

— مرزا غالب

قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

— مرزا غالب

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

— مرزا غالب

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

— مرزا غالب

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

— شیخ ابراہیم ذوق

دل ناامید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

— فیض احمد فیض

شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

— فیض احمد فیض

ہم کو یوں ہی دل نے سمجھایا تھا

وہی ہوگا جو مقدر میں لکھا ہوگا

— ناصر کاظمی

دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

— ناصر کاظمی

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

— مومن خان مومن

مانا کہ اس جہاں کو گلشن نہ کر سکے ہم

کانٹے تو کچھ ہٹا دیے گزرے جدھر سے ہم

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

مومن خان مومن

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

-علامہ اقبال

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ نئی صبح شام پیدا کر

-علامہ اقبال

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

احمد فراز

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

اکبر الہ آبادی

ملت  سے  اپنا رابطہ  استوار  رکھ

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

-علامہ اقبال

علامہ اقبال کا مشہور شعر
علامہ اقبال نے اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا ہے

آ دم کے کسی روپ کی تحقیر نہ کرنا

پھرتا ہے زمانے میں خدا بھیس بدل کر

خواب لفظوں میں ڈھل نہیں سکتے

کاش آنکھیں پڑھا کرے کوئی

 

 

 بہادر شاہ ظفر کی شاعری اردو شاعری میں اور خاص کردو مصری شاعری میں بہت مشہور ہے ان کی مشہور غزل کے اشعار

لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں

بہادر شاہ ظفر

بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ

قسمت میں قید تھی لکھی فصل بہار میں

بہادر شاہ ظفر

کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے

دو  گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں

بہادر شاہ ظفر

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here