Facebook
Instagram
Twitter
Youtube
Sign in
Home
ABOUT US
WAQIAT
ISLAMIC INFORMATION
URDU STORIES
ATTITUDE QUOTES
BEAUTIFUL QUOTES
DEEP QUOTES
ENGLISH QUOTES
MOTIVATIONAL QUOTES
NATURE QUOTES
SAD QUOTES
SMART QUOTES
URDU QUOTES
NATURE QUOTES
ENGLISH QUOTES
ATTITUDE QUOTES
BEAUTIFUL QUOTES
DEEP QUOTES
MOTIVATIONAL QUOTES
SAD QUOTES
SMART QUOTES
POETRY
Sign in
Welcome!
Log into your account
your username
your password
Forgot your password?
Password recovery
Recover your password
your email
Search
Sign in
Welcome! Log into your account
your username
your password
Forgot your password? Get help
Password recovery
Recover your password
your email
A password will be e-mailed to you.
Pakurdusite
Home
ABOUT US
WAQIAT
WAQIAT
قوم سبا پر اللہ کے عذاب کا واقعہ
WAQIAT
ایک کفن چور کا عجیب واقعہ
WAQIAT
ہندو عورت کا سورۂ فاتحہ پر یقین کا واقعہ
WAQIAT
حضرت عیسیٰ ؑ اور لالچی شاگرد کا واقعہ
ISLAMIC INFORMATION
ISLAMIC INFORMATION
فرشتوں کی دنیا
ISLAMIC INFORMATION
رات کو برتن صاف نہ کرنے کے کیا نقصانات ہیں
ISLAMIC INFORMATION
خرگوش کا گوشت کھانا اور پالنا کیسا ہے؟
ISLAMIC INFORMATION
مردوں کو جنت میں حوریں ملیں گی تو عورتوں کو کیا…
ISLAMIC INFORMATION
قبر کی پہلی رات
URDU STORIES
All
ATTITUDE QUOTES
BEAUTIFUL QUOTES
DEEP QUOTES
ENGLISH QUOTES
MOTIVATIONAL QUOTES
NATURE QUOTES
SAD QUOTES
SMART QUOTES
DEEP QUOTES
50 New Inspirational Short Quotes in English
NATURE QUOTES
60 impressive and Inspiring Quotes About Nature
ENGLISH QUOTES
22 Beautiful English Quotes
BEAUTIFUL QUOTES
22 Urdu Best Quotes
URDU QUOTES
NATURE QUOTES
ENGLISH QUOTES
ATTITUDE QUOTES
BEAUTIFUL QUOTES
DEEP QUOTES
MOTIVATIONAL QUOTES
SAD QUOTES
SMART QUOTES
POETRY
Home
WAQIAT
WAQIAT
Most popular
Latest
Featured posts
Most popular
7 days popular
By review score
Random
WAQIAT
ہندو عورت کا سورۂ فاتحہ پر یقین کا واقعہ
akhlaqahmadkhan84@gmail.com
-
November 13, 2023
WAQIAT
حضرت عیسیٰ ؑ اور لالچی شاگرد کا واقعہ
akhlaqahmadkhan84@gmail.com
-
November 13, 2023
WAQIAT
ایک کفن چور کا عجیب واقعہ
akhlaqahmadkhan84@gmail.com
-
November 13, 2023
WAQIAT
قوم سبا پر اللہ کے عذاب کا واقعہ
akhlaqahmadkhan84@gmail.com
-
November 13, 2023
Table of Contents
×
اہل سرسار کی ایک قوم جسے قوم سبا بھی کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں کے اندر زندگی گزار رہی تھی۔ یہ قوم ایک عظیم تہذیب و تمدن کی مالک تھی۔ حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی باعظمت حکومتوں کے بعد ان کی حکومت زبان زد خاص و عام تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ گندم کے مغز سے آٹا پس کر روٹیاں پکاتے تھے۔
لیکن اس ے برعکس وہ اس قدر اصراف کرنے والے اور ناشکرے تھے کہ انہی روٹیوں کے ساتھ بچوں کا پاخانہ صاف کرتے تھے۔ بعد ازاں ان آلودہ روٹیوں کو اکٹھا کرنے سے ایک پہاڑ بن گیا تھا۔
پھر ایک صالح شخص نے وہاں سے گزرتے ہوئے ایک عورت کو دیکھا۔ جو روٹی کے ساتھ بچے کے پاخانے کے مقام کو صاف کر رہی تھی۔ اس شخص نے عورت سے کہا تیرے اوپر افسوس۔
خدا سے ڈر کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا تیرے اوپر اپنا غضب ڈھائے اور تجھ سے اپنی نعمت چھین لے۔ اس عورت نے جواب میں مذاق اڑایا اور مغرورانہ انداز میں کہا جاؤ جاؤ۔ گویا کہ مجھے بھوک سے ڈرا رہے ہو۔ جب تک سرسار جاری ہے مجھے بھوک سے کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہے۔
کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا نہ تھا کہ اللہ تعالی نے ان لوگوں پر اپنا غضب ڈھایا۔ پانی جو کہ زندگی کی بنیاد ہے، ان لوگوں سے چھین لیا۔ یہاں تک کہ قحط نازل ہوا۔ بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کی ذخیرہ کی ہوئی تمام غذا ختم ہوگئی۔
آخر کار وہ مجبور ہوگئے کہ انہیں آلودہ روٹیوں پر ٹوٹ پڑے۔ جو ان لوگوں نے اکٹھی کر کے پہاڑ کے مانند ڈھیر لگایا ہوا تھا۔ بلکہ وہاں سے روٹی لینے کے لیے صف لگتی۔ تاکہ ہر کوئی وہاں سے اپنے حصے کی روٹی لے سکے۔
کفران نعمت قحط اور ان کی بدحالی کے بارے میں متعدد روایات موجود ہیں۔ سورہ نحل کی آیت نمبر ایک سو بارہ اور ایک سو تیرہ میں یوں ارشاد ہوتا ہے۔
اور اللہ نے اس بستی کی بھی مثال بیان کی ہے۔ جو محفوظ اور مطمئن تھی۔ اس کا رزق ہر طرف سے باقاعدہ آ رہا تھا۔ لیکن اس بستی کے رہنے والوں نے اللہ کی نعمتوں کا انکار کیا۔ تو خدا نے انہیں بھوک اور پیاس کا مزہ چکھایا۔ صرف ان کے ان اعمال کی بنا پر کہ جو وہ انجام دے رہے تھے۔
اور یقینا ان کے پاس رسول آیا۔ تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا۔ تو پھر ان تک عذاب آ پہنچا کہ یہ سب ظلم کرنے والے تھے۔
اسی قوم سبا کے بارے میں ایک اور واقعہ بیان ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنی زراعت کو بہتر طور پر کاشت کرنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی خاطر، بلق کے دو پہاڑوں کے درمیان ایک بہت بڑا بند معرب تعمیر کیا ہوا تھا۔
سوراخ اور دوسرے پہاڑوں سے گزرا ہوا پانی اس بند میں آ کر وافر مقدار میں جمع ہو جاتا تھا۔ قوم سبا نے اس پانی سے صحیح طور پر استفادہ کرتے ہوئے وسیع و عریض اور بہت سے خوبصورت باغات لگائے اور کھیتی باڑی کو رونق بخشی۔
ان باغات کے درختوں کی شاخیں اس قدر پھلوں سے لدی ہوئی ہوتی تھیں کہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص سر پر ٹوکری رکھ کر ان کے نیچے سے گزرتا تو پھل خود بخود ٹوکری میں گرنا شروع ہو جاتے اور قلیل مدت میں ٹوکری تازہ پھلوں سے بھر جاتی۔
لیکن نعمتوں کی کثرت نے انہیں شکر کرنے کے بجائے سرمست اور غافل کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان بہت بڑا طبقاتی نظام وجود میں آ چکا تھا۔ ان میں سے صاحب اقتدار لوگوں نے کمزوروں اور ضعیفوں کا خون چوسنا شروع کر رکھا تھا۔
یہاں تک کہ ان لوگوں نے خدا سے ایک احمکانہ التماس کیا۔ جس کا ذکر سورہ سبا کی آیت نمبر انیس میں ملتا ہے۔
انہوں نے کہا خدایا ہمارے سفروں کے درمیان فاصلہ زیادہ کر دے۔
انہوں نے اللہ تعالی سے یہ التماس اس لیے کیا تاکہ غریبوں بے نواح لوگوں، عمرہ اور ثروت مند ان کے ہمراہ سفر نہ کریں۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ آبادیوں کے درمیان خشکی ہو اور فاصلہ بہت زیادہ ہو۔ تاکہ تہی دست اور کم آمدنی والے لوگ ان کی طرح سفر نہ کر سکیں۔
اللہ تعالی نے ان مغرور پیٹ کے پجاریوں پر اپنا غضب نازل کیا۔ بعض روایتوں کے مطابق ان مغرور لوگوں کی آنکھوں سے دور صحرائی چوہوں نے معرب نامی بند کی دیواروں پر حملہ کر کے انہیں اندر سے کھوکھلا کر دیا۔
ادھر سے بارشیں زیادہ ہوئیں۔ جن کی وجہ سے سیلاب آگیا اور اس بند میں پانی بہت زیادہ اکٹھا ہو گیا۔ اچانک بند کی دیواریں ٹوٹیں اس سے ایک بہت بڑا سیلاب آیا۔ جس میں تمام دیہات, آبادیاں, مال مویشی, باغات, کھیتیاں, ان کے محل اور گھر پانی میں غرق ہو کر نابود ہو گئے۔
ان کے باغات اور زراعت میں سے صرف بیری کے درخت اور کچھ جھاڑیاں بچی تھیں۔ خوش الہان پرندے وہاں سے کوچ کر گئے تھے۔ جبکہ الوؤں اور کوؤں نے قوم سبا کے کھنڈرات میں اپنے گھونسلے بنا تھے۔ اس بات کا ذکر سورہ صبا کی آیت نمبر پندرہ اور سولہ میں ملتا ہے۔ اور آخر میں سورہ صبا کی آیت نمبر سترہ میں قرآن کریم میں اس واقعہ کا یوں نتیجہ نکالا ہے۔
یہ ہم نے ان کی ناشکری کی سزا دی ہے اور ہم نا شکروں کے علاوہ کسی کو سزا نہیں دیتے ہیں”۔”
Post
→
Index